WhatsApp Hacking Solution 2

واٹس ایپ پر اسرائیلی وائرس کا حملہ، سارا ڈیٹا چوری

اسرائیل نے واٹس ایپ پر اب تک کا دنیا کا سب سے بڑا حملہ کیا ہے، جس کی مدد سے کروڑوں صارفین کا پرسنل ڈیٹا چوری کر لیا گیا ہے۔ یہ حملہ اسپائی ویئر وائرس کی مدد سے کیا گیا۔ جس کی اب واٹس ایپ کمپنی نے تصدیق بھی کر دی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کمپنی(این ایس او) نے فون کالز کی آڑ میں کئی اہم صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے موبائل فون کی ہیکنگ کی ہے یا ان کےفون میں اپنے اسپائی ویئر اتار دیئے ہیں، جس کی مدد سے صارفین کا تمام ڈیٹا چوری کر لیا گیا ہے، حملہ کا زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوا ہے جو واٹس ایپ اپنے کمپیوٹر پر استعمال کرتے تھے، اور یہ حملہ پوری دینا میں اسرائیل کی جانب سے کیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیلی کمپنی این ایس او نے اس حملہ کا پول کھلنے کی بعد اپنا مؤقف پیش کیا ہے کہ حملے کا مقصد صرف جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردی سے لڑنا ہے اور ان کی کمپنی ایک بہترین اورحکومتی لائسنس یافتہ ہے، اس کے علاوہ یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں قائم دی سٹیزن لیب نامی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملہ میں انسانی حقوق سے وابستہ افرد کو خاص ٹارگٹ بنایا گیا اور انسانی حقوق کے ایک نامی وکیل کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حملوں کا یہ سلسلہ 12 مارچ سے شروع ہوا ہے اور اب تک جاری ہے۔

واٹس ایپ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صارفین فوراََ اپنے فون میں جدید ترین ورژن انسٹال کرلیں، تا کہ وہ اس حملہ سے بچ سکیں، اور ساتھ ساتھ اپنے فون کو ایک بار اینٹی وائرس سے اسکین بھی ضرور کر لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ حملہ کیسے کیا جا رہا ہے۔ صارف کو واٹس ایپ پر انجان نمبر سے فون کیا جاتا ہے اور جیسے ہی صارف کال سنتا ہے تو وائس کال کے ذریعے موبائل میں اسپائی ویئر یا جاسوس ایپس انسٹال کر دی جاتی ہیں اور کسی کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ واٹس ایپ کے اب تقریباََ ڈیڑھ ارب سے زائد صارفین ہیں اور یہ خطرہ تمام صارفین کے لئے ہے۔ واٹس ایپ کا مزید کہنا ہے کہ صارفین کوشش کریں کہ انجان کالز کچھ عرصہ کے لئے بالکل نہ سنیں اور ہم مسلسل اس صورت حال پر بھرپورنظر رکھے ہوئے ہیں، تاکہ مستقبل میں ایسا حملہ نہ ہو سکے۔

آپ کو یاد کرواتے چلیں کہ اسی اسرئیلی کمپنی نے2016 میں بھی متحدہ عرب امارات پر ایسا ہی حملہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ اسرئیلی کمپنی کا بنایا ہوا وائرس اتنا طاقتور ہے کہ اگر کوئی شخص فون کال کا جواب نہ بھی دے، تب بھی چند سیکیڈز کے لئے خود بہ خود کال ریسیو ہو جاتی ہے اور فون کو اپنا ہدف بنا کرسارا ڈیٹا چوری کر لیتی ہے، اور پھر آپ کی کال لاگ سے نمبر بھی خود بہ خود غائب ہو جاتا ہے، اور صارف کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ ماہرین نے کچھ عرصہ واٹس ایپ کو استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اس حملے کے بعد دنیا بھر سے واٹس ایپ پر شدید تنقید ہو رہی ہے کہ واٹس ایپ کے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن اور محفوظ تر ہونے کے تمام دعوے ہوا میں اڑ گئے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ انٹررنیٹ کے دور میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، اسی لئے جاسوسی کرنے والے ادارے اور مشہور افراد بنا انٹرنیٹ والا موبائل استعمال کرتے ہیں، کہ نہ ہو گا انٹرنیٹ اور وہ محفوظ رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں