Who is the world's biggest foolish person 28

دنیا کے سب سے بڑے بیوقوف کی تلاش کریں

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ بادشاہ بھی بادشاہ ہی ہوتے تھے، اسی طرح کے ایک بادشاہ نے اپنی سلطنت میں ایک دن اعلان کروایا کہ میری سلطنت میں جو سب سے بڑا بے وقوف ہے، اسے انعام دیا جائے گا۔ سارے وزراء حکم کی تعمیل میں لگ گئے اور پورے ملک سے آنے والے بیوقوفوں کے انٹرویو لینے لگ گئے، آخرکار 100 لوگوں کا انتخاب کیا گیا، جن کا بادشاہ نے خود امتحان لینا تھا، بادشاہ نے سب کے انٹرویو لئے اور ایک آدمی کا انتخاب کیا اور اسے ملک کا سب سے عظیم بیوقوف کا لقب دیا گیا۔ بادشاہ نے انعام کے طور پر اپنے گلے سے ایک بہت قیمتی ہار اتار کر اس بے وقوف کے گلے میں ڈال دیا، اور انعام واکرام کے ساتھ رخصت کردیا۔

وہ بے وقوف اعزاز پا کر اپنے گھرواپس لوٹ گیا، لوگ ایک طرف اس کے بیوقوف ہونے کے مرتبہ پر ہنستے اور ساتھ ساتھ ہار دیکھ کر رشک کرتے۔ کافی سال بعد وہ بے وقوف ایک سفر کے دوران پھر بادشاہ سے ملا۔ بادشاہ بہت زیادہ بیمار تھا اور قریب تھا کہ موت واقع ہو جائے۔ خیر بادشاہ کو بتایا گیا کہ وہ بیوقوف آپ سے ملنا چاہتا ہے، بادشاہ نے ملاقات کی اجازت دے دی۔ بے وقوف حاضر ہوا اور پوچھا بادشاہ سلامت! آپ لیٹے ہوئے کیوں ہیں؟ بادشاہ مسکرایا اور بولا میں اب اْٹ نہیں سکتا، کیونکہ میں ایک آخری سفر پر جا رہا ہوں، جہاں سے واپسی نہیں ہو گی اور وہاں جانے کے لیے لیٹنا ضروری ہے۔ بے وقوف نے بڑی حیرت نے پوچھا، کیا آپ واپس نہیں آئیں گے؟ کیا ہمیشہ وہاں ہی رہنا ہے؟ بادشاہ نے ایک لمبی آہ بھری اور بڑی بے بسی سے بولا، ہاں! اب مجھے ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔ بے وقوف بولا کہ پھر تو آپ نے وہاں یقیناً ایک بہت بڑا محل بنوایا ہو گا، بڑے بڑے باغیچے بنوائے ہونگے، بہت سے غلام، بہت سی بیگمات اوربہت سا سامان بھی روانہ کر دیا ہوگا۔ بادشاہ بےوقوف کی بات سن کر رو پڑا اور آنکھوں سے آنسووں کا ایک سیلاب امڈ آیا۔

بے وقوف حیرت سے بادشاہ کو دیکھتا رہا لیکن اسے کچھ سمجھ نہ آئی کہ آخر بادشاہ کیوں رو رہا ہے۔ پھر بادشاہ نے خود کو سنبھالا اور بڑے دکھی لہجے میں بولا کہ نہیں۔ میں نے وہاں ایک جھونپڑی بھی نہیں بنائی، میں نے کبھی بھی اس سفر کی تیاری نہیں کی، میں بس اپنے عیش و آرام میں ڈوبا رہا، اب اتنی دیر ہو گئی ہے کہ میرے پاس تیاری کرنے کا بھی ٹائم نہیں رہا۔ بے وقوف بادشاہ کا جواب سن کر اور بھی حیران ہو گیا اور بولا کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ آپ سب سے زیادہ سمجھ داراور عقلمند ہیں، جب آپ کو پتہ تھا کہ آپ نے ایک دن کسی سفر پر بھی جانا تھا اورپھر ہمیشہ وہاں ہی رہنا تھا تو کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ نے اس سفر کا کوئی انتظام نہ کیا ہو۔ بے وقوف کی بات سن کر بادشاہ اور غمگین ہو گیا اور آہ بھرے لہجے میں بولا افسوس، صد افسوس، میں بھول گیا تھا کہ میں نے ایک دن اس سفر پر بھی جانا ہے، میرے پاس ساری زندگی تھی، لیکن میں نے اس سفر کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ بے وقوف نے بادشاہ کی بات سنتے ہی اپنے گلے سے بادشاہ کا دیا ہوا ہار اتارا اور بادشاہ کو واپس دیتے ہوئے بولا تو پھر حضور، اس ہارکے اصل حقداد مجھ سے زیادہ آپ ہیں۔

اللہ رب العزت ہمیں ہدایت عطا کریں کہ ہم کبھی بھی یہ نہ بولیں کہ ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں اور واپس کہاں جانا ہے تا کہ اللہ کی مدد سے ہم اس سفر کی بھرپور تیاری کر سکیں۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں