Why did Allah create the Fly 36

اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا فرمایا، حکمت کیا تھی؟

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خراسان کا ایک بادشاہ شکار کھیل کر واپس اپنے محل کی جانب آ رہا تھا، کہ راستے میں موسم خراب ہونے کی وجہ سے لشکر کو ایک محفوظ مقام پر پڑاؤ ڈالنا پڑا، بادشاہ اپنے خیمے میں موسم کے ٹھیک ہونے کا انتظار کرنے لگا کیونکہ وہ جلد سے جلد محل پہنچنا چاہتا تھا، جہاں اسے ایک شخص کو سزا دینا تھی، جو عوام کو بادشاہ کے خلاف ورگلا رہا تھا کہ بادشاہ عوام کی فلاح کے کاموں سے ذیادہ اپنی عیش و عشرت میں لگا ہوا ہے، شکار کے دوران ایک وزیر نے خبر دی تھی کہ فلاں شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور بادشاہ غصے میں فوراََ اس شخص کو سزا دینے کے لئے واپس محل کی طرف چل نکلا تھا۔ بادشاہ خیمے میں انتظار کرتے کرتے تھک گیا، سفر کی وجہ سے بھی کافی تکاوٹ تھی، اسی وجہ سے بادشاہ کی آنکھ لگ گئی، اور بادشاہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ پاس ہی بادشاہ کا ایک غلام ہاتھ باندھے مودب انداز میں کھڑا تھا، کچھ ہی دیر میں ایک مکھی خیمے میں داخل ہوئی اور اب بادشاہ کے اردگرد منڈلانے لگی، بادشاہ مکھی کی آواز سے بار بار آنکھیں کھول رہا تھا، اور اب جب بھی بادشاہ آنکھیں بند کرتا تو مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی، اور نیند اور بے خیالی کی وجہ سے بادشاہ غصے میں مکھی کو مارنے کی کوشش کرتا لیکن اس کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر جا پڑتا تھا اور وہ ہڑبڑا کر جاگ جاتا، جب دو تین بار ایسا ہو تو بادشاہ تنگ آ کر بیٹھ گیا اور پاس کھڑے غلام سے پوچھا، تمھیں پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکھی کو کیوں پیدا فرمایا؟ مکھی کی پیدائش میں اللہ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے؟

غلام نے بادشاہ کا سوال سن کر کچھ لمحے سوچا اور پھر ایسا جواب دیا جو کہ سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ غلام نے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت! اللہ تعالیٰ نے مکھی کو شاید اس لئے پیدا فرمایا کہ بادشاہوں اور سلطانوں کو یہ احساس ہوتا رہے کہ بعض اوقات ان کا ذور ایک مکھی پر بھی نہیں چلتا، جس سے ایک سبق یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ ہمیشہ وقت ایک سا نہیں رہتا، اس لئے جو ذمہ داری اللہ نے دی ہے، اس کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ کہتے ہیں کہ بادشاہ کو اس غلام کی بات اتنی دل کو لگی کہ وہ کافی دیر تک بیٹھا سوچتا رہا، جس کے بعد اس نے اس غلام کو آذاد کرکے اپنا مشیر بنا لیا اور واپس محل آ کر اس انسان کو بھی معاف کر دیا، جسے سزا دینے کے لئے وہ جلدی جلدی واپس آیا تھا، اور عوام کی فلاح کے کاموں میں دل و جان سے لگ گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ اکثر تنہائی میں غلام کی بات یاد کرتا اور اللہ سے ہدایت اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا۔

غلام کی بات کسی حد تک تو ٹھیک تھی مگر بلاشبہ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ اللہ کی مکھی کوپیدا مرمانے میں کیا حکمت کارفرما تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں